زاد راہ
طویل رات نے آنکھوں کو کر دیا بے نور
کبھی جو عکس سحر تھا سراب نکلا ہے
سمجھتے آئے تھے جس کو نشان منزل کا
فریب خوردہ نگاہوں کا خواب نکلا ہے
تھکن سے چور ہیں آگے بڑھیں کہ لوٹ آئیں
چھپے ہوئے ہیں اندھیروں میں وسوسے کیا کیا
ہر ایک خضر پہ رہزن کا شک گزرتا ہے
ہر آستین میں خنجر دکھائی دیتا ہے
پرے سرکتی ہی جائے گی صبح کی سرحد
ہماری جرأت آغاز بھول تھی شاید
ہمارے ہاتھ میں امید کا چراغ نہیں
یہ وہ چراغ تھا جس پر ہمیشہ رکھتے تھے
ہم اپنے سنگ سے آہن سے عزم کا سایہ
وہی تو تھا دل خستہ کا ایک سرمایہ
خلوص اور یقیں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے
گئے ہیں ایسے کہ ہم اعتبار کھو بیٹھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.