Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہائے باپو تری دہائی ہے

کنول ڈبائیوی

ہائے باپو تری دہائی ہے

کنول ڈبائیوی

MORE BYکنول ڈبائیوی

    خوئے آزاد جس نے پائی ہے

    اس کے قبضے میں کل خدائی ہے

    ان سے میں بھی یہ بات کہتا ہوں

    جن کی تقدیر میں برائی ہے

    اپنے ماضی پہ ڈال لو نظریں

    کس قدر کس نے کی بھلائی ہے

    بات آئی زباں پہ کہتا ہوں

    یہ تو بندوں ہی کی خدائی ہے

    روک کر گلا کر رہے ہیں بلیک

    قحط کی ہر طرف دہائی ہے

    کتنے ٹھیکے میں اب کی بار بچے

    کتنی رشوت کی دولت آئی ہے

    اپنے اپنوں کو پوچھتا ہے ہر اک

    اہل طاقت ہی کی بن آئی ہے

    گر منسٹر ہے آپ کا سالا

    تو کلکٹر بنا جمائی ہے

    ہے جو انجینئر سفارش سے

    پھر تو ٹھیکے میں اس کا بھائی ہے

    خوف ہے کس کا راج ہے اپنا

    اپنا ہی سارا آنہ پائی ہے

    روزی اور روزگار ہیں ان کے

    ہم غریبوں کا حق گدائی ہے

    ان کا ذریعہ ہے یہ کمانے کا

    دیکھنے ہی کی پارسائی ہے

    کس سے جا کر کنولؔ کرے فریاد

    ہائے باپو تری دہائی ہے

    آج پھر سے اگست آیا ہے

    سب کے گھر میں خوشی ہی چھائی ہے

    سال آئندہ کے کمانے کو

    تم نے سکیم کیا بنائی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Mizraab (Kulliyat) (Pg. 251)
    • Author : Prof. Ibne Kanwal
    • مطبع : Kitabi Duniya, Delhi (2010)
    • اشاعت : 2010

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے