زندگی سے خطاب
مرا وجود ترے واسطے دھواں ہی سہی
مرا خیال بھی وجہ عذاب جاں ہی سہی
میں اب بس ایک اذیت سہی فغاں ہی سہی
شگاف ڈھوتا ہوا زرد آسماں ہی سہی
مگر میں تیری محبت کا خواب بھی رہا ہوں
یہ اور بات کہ اب خطۂ تباہ میں ہوں
نگاہ شاہ کا وارث عتاب شاہ میں ہوں
تغیرات کے موسم کی بارگاہ میں ہوں
بچھڑ کے خود سے عذابات بے پناہ میں ہوں
ہوں اب جو راکھ تو کچھ دن گلاب بھی رہا ہوں
اے زندگی مجھے یک لخت مسترد تو نہ کر
فقط مرے لیے تفریق نیک و بد تو نہ کر
میں تیرے ساتھ چلا ہوں اب اتنی حد تو نہ کر
مجھے پچھاڑنے میں اتنی شد و مد تو نہ کر
میں ایک عمر ترا انتخاب بھی رہا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.