Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

پہلی محبت

محمد اویس ماہی

پہلی محبت

محمد اویس ماہی

MORE BYمحمد اویس ماہی

    مسکراتی تھی وہ مجھ کو دیکھ کر

    بیل اک انگور کی

    گھر کے آنگن میں لگی تھی

    میرے ہاتھوں میں پلی تھی

    جس کو میں نے چشمۂ الفت کی پہلی موج کے

    پہلے پانی سے کیا سیراب تھا

    دل میں میرے خواب تھا

    خواب تھا میرا کہ اک دن

    رس کشیدی کر کے میں اک خوشۂ انگور سے

    جسم کے برتن میں اپنی روح کے تشنہ لبوں کی

    پیاس کو میں بادۂ عیش آفریں کی نذر کر دوں

    سرخیٔ مے سے لبوں کو سرخ کر لوں

    جام عشرت سے میں خود کو مست کر لوں

    پر جو دل میں خواب تھا

    خواب ہی وہ رہ گیا

    کوئی شاخ تاک سے

    انگور سارے لے گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے