خوشبو
ٹپ ٹپ بوندیں بے کل خواہش
ساون رت چھائی ہے ہر سو
آم کے پیڑوں سے آتی ہے
کوئل کی آوارہ کو کو
غم دھرتی کی سوندھی خوشبو
سوئی یادوں کو سہلائے
بیتی برساتوں کی گپھا میں
کھوئے کھوئے چھنکے گھنگرو
لہر لہر بے چپن ہے ساگر
ساحل پیاسا ذرہ ذرہ
دیکھ کے بڑھتے ہاتھ تمہارے
لہرا اٹھے رخ پر گیسو
گھونگھٹ میں تڑپی چنگاری
بھٹکی باتیں بہکی دھڑکن
سرگوشی میں الجھی سسکی
ڈھلک گئے شانے پر آنسو
کانچ کی چوڑی کے ٹکڑوں سے
دھیان میں بیٹھی کھیل رہی تھی
سمٹی سن کر نام تمہارا
آئی گرم حنا کی خوشبو
کہیں سنہرا وصل نہ دمکے
ٹوہ میں رہتی ہے سب دنیا
بول نہ اٹھے دشمن گھنگرو
بات کھلے گی مجھ کو مت چھو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.