ہم جو یوں پھر رہے ہیں گھبرائے
آخری بار ان سے مل آئے
یوں گلے لگ کے ہو لئے رخصت
ان کہی بات کی مٹی حسرت
جو بھی تنہائیوں میں سوچی تھیں
کھل کے وہ ساری باتیں کہہ ڈالیں
اور جو کہنے سے تھی زباں لاچار
کہہ گئی چور گرمئ رخسار
ظلمت غم میں دل چراغ بنا
لالہ رخ پہ اشک داغ بنا
کہہ دیا چپکے چپکے رو رو کے
ہار مانی ہے ہم نے دنیا سے
سارے دعوے وفا کے ختم ہوئے
ہم نہیں ایک دوسرے کے لیے
گھر کے قصے بیان ہوتے رہے
اپنی مجبوریوں پہ روتے رہے
جان کی دی قسم کہ شاد رہیں
التجا کی کہ بھول جائیں ہمیں
تھام کر ہاتھ ان سے قول لیا
بیاہ کر لیں گے وہ کہیں اپنا
ملے حسرت سے جوں لب افسوس
رہ گئے اپنے اپنے دل کو مسوس
جانتے تھے کہ اب نہ دیکھیں گے
پاس سے ان کی شکل تکتے تھے
تھرتھراتے لبوں سے دے کے دعا
عمر بھر کے لیے وداع کیا
مگر اب تک یہ سوچ ہے دل میں
ان سے اک بار اور مل آئیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.