Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آخری بار

فہمیدہ ریاض

آخری بار

فہمیدہ ریاض

MORE BYفہمیدہ ریاض

    دلچسپ معلومات

    (بطرز مثنوی)

    ہم جو یوں پھر رہے ہیں گھبرائے

    آخری بار ان سے مل آئے

    یوں گلے لگ کے ہو لئے رخصت

    ان کہی بات کی مٹی حسرت

    جو بھی تنہائیوں میں سوچی تھیں

    کھل کے وہ ساری باتیں کہہ ڈالیں

    اور جو کہنے سے تھی زباں لاچار

    کہہ گئی چور گرمئ رخسار

    ظلمت غم میں دل چراغ بنا

    لالہ رخ پہ اشک داغ بنا

    کہہ دیا چپکے چپکے رو رو کے

    ہار مانی ہے ہم نے دنیا سے

    سارے دعوے وفا کے ختم ہوئے

    ہم نہیں ایک دوسرے کے لیے

    گھر کے قصے بیان ہوتے رہے

    اپنی مجبوریوں پہ روتے رہے

    جان کی دی قسم کہ شاد رہیں

    التجا کی کہ بھول جائیں ہمیں

    تھام کر ہاتھ ان سے قول لیا

    بیاہ کر لیں گے وہ کہیں اپنا

    ملے حسرت سے جوں لب افسوس

    رہ گئے اپنے اپنے دل کو مسوس

    جانتے تھے کہ اب نہ دیکھیں گے

    پاس سے ان کی شکل تکتے تھے

    تھرتھراتے لبوں سے دے کے دعا

    عمر بھر کے لیے وداع کیا

    مگر اب تک یہ سوچ ہے دل میں

    ان سے اک بار اور مل آئیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے