Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

شکست

اپنے سینے سے لگائے ہوئے امید کی لاش

مدتوں زیست کو ناشاد کیا ہے میں نے

تو نے تو ایک ہی صدمے سے کیا تھا دو چار

دل کو ہر طرح سے برباد کیا ہے میں نے

جب بھی راہوں میں نظر آئے حریری ملبوس

سرد آہوں میں تجھے یاد کیا ہے میں نے

اور اب جب کہ مری روح کی پہنائی میں

ایک سنسان سی مغموم گھٹا چھائی ہے

تو دمکتے ہوئے عارض کی شعاعیں لے کر

گل شدہ شمعیں جلانے کو چلی آئی ہے

میری محبوب یہ ہنگامۂ تجدید وفا

میری افسردہ جوانی کے لیے راس نہیں

میں نے جو پھول چنے تھے ترے قدموں کے لیے

ان کا دھندلا سا تصور بھی مرے پاس نہیں

ایک یخ بستہ اداسی ہے دل و جاں پہ محیط

اب مری روح میں باقی ہے نہ امید نہ جوش

رہ گیا دب کے گراں بار سلاسل کے تلے

میری درماندہ جوانی کی امنگوں کا خروش

ریگزاروں میں بگولوں کے سوا کچھ بھی نہیں

سایۂ ابر گریزاں سے مجھے کیا لینا

بجھ چکے ہیں مرے سینے میں محبت کے کنول

اب ترے حسن پشیماں سے مجھے کیا لینا

تیرے عارض پہ یہ ڈھلکے ہوئے سیمیں آنسو

میری افسردگئ غم کا مداوا تو نہیں

تیری محبوب نگاہوں کا پیام تجدید

اک تلافی ہی سہی میری تمنا تو نہیں

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے