Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بے نشان

مجید امجد

بے نشان

مجید امجد

MORE BYمجید امجد

    میں اب آیا ہوں اتنے برسوں کے بعد

    آندھیاں آئیں بدلیاں برسیں

    دب گئیں خاک کی تہیں تہ خاک

    بہتی مٹی میں بہہ گئی مٹی

    میرے نادیدہ پیش رو تری قبر

    کس جگہ تھی یہ اب کسے معلوم

    یوں ہی اپنے قیاس سے میں نے

    ریت کی اک شکن کو پہچانا

    مٹتی سطحوں پہ ایک ڈوبتی سطر

    اک خط خاک جس پہ کچھ کنکر

    میں نے پہلے تو چن کے رکھ بھی دیئے

    پھر خیال آیا اب یہ کون کہے

    قبر تیری یہیں کہیں تھی مگر

    تھی کہاں شاید اس جگہ تو نہ تھی

    کچھ جو سوچا نہ جانے کیا سوچا

    ذہن میں لاکھ الجھ گئے خاکے

    میں نے کنکر وہ سب بکھیر دیئے

    بے نشاں خاک میرے سامنے اب

    ان جہانوں کا ایک حصہ ہے

    جن کے بھیدوں کی تھاہ میں تو ہے

    جن کے سایوں کی قبر میں میں ہوں

    مأخذ :

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے