اوتار
پجارن نے اک بت بنایا
اسے من کے مندر میں لا کر سجایا
اسے اپنا ایک ایک دکھڑا سنایا
پجارن نے آشاؤں کے کتنے خاکے بنائے مٹائے
سلگتی ہوئی شام سے پھوٹتی صبح تک کتنے دیپک جلائے بجھائے
پجارن نے پوجا کی جتنی بھی رسمیں تھیں ساری ادا کیں
پجارن کے سینے میں جتنی تمنائیں تھیں آرتی میں سجا دیں
کہ شاید بت سنگ اس کا خدا مسکرا دے
اسے زیر لب یوں صدا دے
نہ رو میرے پہلو میں آ مجھ میں تحلیل ہو جا
کہ میں تیری تخلیق ہوں تیرا شہکار ہوں
تو مری روح ہے اور میں تیرا اوتار ہوں
مگر کوئی نغمہ نہ پھوٹا
کہ وہ دیوتا تودۂ سنگ تھا اس کے سینے میں پتھر کا دل تھا
پجارن نے اپنے ہی شہکار کا سر قلم کر دیا
ہر طرف خون بکھرا ہوا تھا
صدا آ رہی تھی
نہ رو میرے پہلو میں آ مجھ میں تحلیل ہو جا
کہ میں تیری تخلیق ہوں تیرا شہکار ہوں
تو مری روح ہے اور میں تیرا اوتار ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.