کتنے بے مہر تھے ہاتھ
جو ترے دیدہ و دل پر
کسی سائے کی طرح لہرائے
کاش وہ وقت مجھے یاد نہ آئے
جب ترے پاس کھڑے دھند میں
مٹتے ہوئے ہم
تیری بینائی میں گھٹتے ہوئے
چلاتے تھے
اس کے با وصف تجھے
یاد کہاں آتے تھے
وہ شب و روز کہ جو
تیری رفاقت میں کٹے
تم تو بس جھاگ میں بہتے ہوئے
اک لہر کی باہوں میں چلے جاتے تھے
کتنے بے مہر تھے ہاتھ
جو ترے دیدہ و دل پر
کسی سائے کی طرح لہراتے
کاش وہ وقت مجھے یاد نہ آئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.