تم سے
اتنی گرمی
میرا تن اندر سے بھٹی
باہر ۱۱۷ ۱۲۰ کی گرمی
مہندی لمحے بھر کو ٹھنڈک
بیچ ہتھیلی آن جگائے
پانی پنڈے پر ڈالو تو
آنی جانی ٹھنڈک آئے
وہ ٹھنڈک جو روئیں روئیں میں
ٹھہر ٹھہر کے چین سجائے
ٹھنڈے پیٹ اور گرم کٹوروں
بیچ رکھے ہاتھوں میں جاگے
دھوپ میں جیسے کپڑے گیلے
رات میں جیسے خواب کا نشہ
پھیلے پھیلے اور بھی پھیلے
ان چھوٹی گلیوں کی دودھ سفیدی
جاگتی بند ہوتی آنکھوں کی صورت
پھول میں ڈھلنے کو تڑپے تو
فاختہ جیسے بازو کھولو
انگڑائی کی گرمی تم سے نئی چنبیلی مانگ رہی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.