جوانوں سے خطاب
دلچسپ معلومات
آل انڈیا کانگریس ششن اجودھیا میں جواہر لعل نہرو جی کی صدارت میں جو مشاعرہ ہوا تھا اس میں پڑھی گئی تھی۔ ضبط شدہ کتاب آزادی کی نظمیں میں شامل ہے۔
جوانو ہو گئی صبح عمل بیدار ہو جاؤ
زمانہ کام کرنے کا ہے اب ہشیار ہو جاؤ
فریب امن کے ساغر کی یہ بدمستیاں کب تک
سہو گے بے خودی میں آہ جور آسماں کب تک
رباب لطف کے تاروں کی جنبش موت ساماں ہے
وہ دیکھو سامنے اٹھتی ہوئی شورش کا طوفاں ہے
قیامت ہے کہ تم میں ہے وہی افسردگی اب تک
مئے غفلت کے متوالو تمہاری بے بسی کب تک
بہت سیکھا ہے تم نے زور بازوئے صحافت کا
بتاؤ کچھ تمہیں احساس بھی ہے اپنی طاقت کا
ڈبو دے سارے عالم کو وہ بحر بیکراں تم ہو
تبر ہو تیغ ہو طوفان ہو برق و سناں تم ہو
تمہاری آنکھ کی جوتوں سے وہ شعلے نکلتے ہیں
کہ جن سے آسمانی بجلیوں کے پر جھلستے ہیں
ہوائے تند کہتے ہیں تمہاری سرد آہوں کو
بجھا دیتی ہیں جو ظالم حکومت کے چراغوں کو
سناں کیا چیز ہے اور توپ کیا شمشیر کیا شئے ہے
تمہارے زور بازو کے مقابل تیر کیا شئے ہے
وہی تم ہو کہ فطرت جن کے دل کی جنگ کوشی ہے
تمہاری زیست کا بس ایک مقصد سرفروشی ہے
وہ دیکھو ناؤ سے منجھدار میں کس نے پکارا ہے
تمہیں کو نا خدائی کے لئے بھارت نے تاکا ہے
بھنور سے اپنی کشتی تمنا پار ہو جائے
اگر تم نا خدا بن جاؤ بیڑا پار ہو جائے
یہی ہے وقت اٹھو بر سر پیکار ہو جاؤ
جوانو سرفروشی کے لئے تیار ہو جاؤ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.