Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جوانوں سے خطاب

ہندی گورکھپوری

جوانوں سے خطاب

ہندی گورکھپوری

MORE BYہندی گورکھپوری

    دلچسپ معلومات

    آل انڈیا کانگریس ششن اجودھیا میں جواہر لعل نہرو جی کی صدارت میں جو مشاعرہ ہوا تھا اس میں پڑھی گئی تھی۔ ضبط شدہ کتاب آزادی کی نظمیں میں شامل ہے۔

    جوانو ہو گئی صبح عمل بیدار ہو جاؤ

    زمانہ کام کرنے کا ہے اب ہشیار ہو جاؤ

    فریب امن کے ساغر کی یہ بدمستیاں کب تک

    سہو گے بے خودی میں آہ جور آسماں کب تک

    رباب لطف کے تاروں کی جنبش موت ساماں ہے

    وہ دیکھو سامنے اٹھتی ہوئی شورش کا طوفاں ہے

    قیامت ہے کہ تم میں ہے وہی افسردگی اب تک

    مئے غفلت کے متوالو تمہاری بے بسی کب تک

    بہت سیکھا ہے تم نے زور بازوئے صحافت کا

    بتاؤ کچھ تمہیں احساس بھی ہے اپنی طاقت کا

    ڈبو دے سارے عالم کو وہ بحر بیکراں تم ہو

    تبر ہو تیغ ہو طوفان ہو برق و سناں تم ہو

    تمہاری آنکھ کی جوتوں سے وہ شعلے نکلتے ہیں

    کہ جن سے آسمانی بجلیوں کے پر جھلستے ہیں

    ہوائے تند کہتے ہیں تمہاری سرد آہوں کو

    بجھا دیتی ہیں جو ظالم حکومت کے چراغوں کو

    سناں کیا چیز ہے اور توپ کیا شمشیر کیا شئے ہے

    تمہارے زور بازو کے مقابل تیر کیا شئے ہے

    وہی تم ہو کہ فطرت جن کے دل کی جنگ کوشی ہے

    تمہاری زیست کا بس ایک مقصد سرفروشی ہے

    وہ دیکھو ناؤ سے منجھدار میں کس نے پکارا ہے

    تمہیں کو نا خدائی کے لئے بھارت نے تاکا ہے

    بھنور سے اپنی کشتی تمنا پار ہو جائے

    اگر تم نا خدا بن جاؤ بیڑا پار ہو جائے

    یہی ہے وقت اٹھو بر سر پیکار ہو جاؤ

    جوانو سرفروشی کے لئے تیار ہو جاؤ

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے