کہانی چلتی رہتی ہے
کہانی ختم ہونے جا رہی ہے
لوگ کہتے ہیں
کوئی ایوان میں مضراب پر وہ نغمہ افسوں سناتا ہے
جسے سن کر ہوائے نیل و سبز و ارغوانی کانپ جاتی ہے
ستاروں کی چمک معدوم ہوتی ہے
رخ مہتاب پر گنج شہیداں اشک بھرتا ہے
کوئی دربار میں شطرنج کے مہرے بچھا کر
ریشمی فنجان میں زہراب بھرتا ہے
کوئی میدان میں تاشا بجاتا ہے
سگان کوچہ و بازار لے پر رقص کرتے ہیں
زمیں کی تیرگی سے آسماں میں دھند چھائی ہے
درختوں پیڑ پودوں باغبانوں پر
نگاہ آمرانہ سے صدائے سنگ آتی ہے
خیال آرزو رو رو کے اپنی جان دیتا ہے
لباس فاخرہ پر سیمیائی تیر چلتا ہے
جمال شہر کے اعزاز یکتائی کا تمغہ ٹوٹ جاتا ہے
کہانی آخری منزل میں آ پہنچی ہے
اس میں جھوٹ کتنا اور سچ کیا ہے
کہ ہر قصے میں صدق و کذب سے ہی داستاں میں رنگ آتا ہے
یہاں پر نظم کا انجام ہوتا ہے
مگر اب دوسری اک نظم کا آغاز ہوتا ہے
کہانی ختم ہونے سے بہت پہلے یہ کہتی ہے
ابھی وقفہ ہوا ہے درمیانی مرحلہ اک ہے
ہزاروں موڑ اور ابواب ہوتے ہیں
کئی قصے کئی کردار آتے ہیں
جو درد عشق کی روداد کی تفسیر کرتے ہیں
فسانے حسن کے جور و ستم اور اشک باری کے سناتے ہیں
سر بازار لیلا ماتمی پوشاک پہنے ابر آنکھوں میں سجائے
بال کھولے سر پٹکتی پوچھتی ہے
کیا کہیں جاوید کو دیکھا کسی نے دشت ہجراں میں
منادی یہ
کہ جیسے سن پچھتر میں ہوا ہنگامۂ محشر
کوئی مجنوں تلاش حسن میں گر شاہراہ عشق میں نکلے
حصار خیمۂ آتش میں اس کو زیست کرنا ہے
یہی زندہ اسیری ہے
یہ لب خاموش ہیں
دل میں ہزاروں نقش ہائے خواب رکھتے ہیں
لہو میں گردش و گریہ کی بھی تعبیر رکھتے ہیں
پس دیوار یا آثار ہو جائیں
در و دیوار روئیں گے
گھروں سے لشکر گریہ بھی نکلے گا
یہاں سے زخم دل کی تختیاں لکھی ہوئی
سینے سے لٹکائے ہوئے عشاق نکلیں گے
گلے کا طوق گمنامی بھی توڑیں گے
فراز جسم جب سینہ سپر ہوگا
روپہلی دھوپ سورج کی
دھواں بن کر گلی کوچے میں گھومے گی
کہیں گے
آب و دانہ ہی نہیں کافی
جبیں پر ہر طرح کے پھول رکھنے کی اجازت ہو
زمانہ کب تلک اپنی سماعت بند رکھے گا
اسے اک دن
سوال منظر وحشت زدہ کا سامنا ہوگا
فریب زندگی کو کیوں عروج بندگی سمجھا
کہانی زندگی ہے
زندگی خود اک کہانی ہے
کبھی آغاز یا انجام کا وقفہ نہ آتا ہے
کہ ہر پل قصۂ درویش جاری ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.