Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہمارا گاؤں ہمارے بچے

صفدر سلیم سیال

ہمارا گاؤں ہمارے بچے

صفدر سلیم سیال

MORE BYصفدر سلیم سیال

    ہمارا گاؤں جو اونچے ٹیلے پہ کل کھڑا تھا

    وہ جس کی تاریخ میں لکھا ہے کہ وہ ہمیشہ

    گزرنے والے ہر ایک سیلاب پر ہنسا ہے

    ہر ایک طوفان سے لڑا ہے

    ہمارے گاؤں کے جتنے باسی تھے

    سب کے سب مسکرا رہے تھے

    ہمارے بچے

    گزرتے سیلاب میں اتر کر

    بطوں کی صورت نہا رہے تھے

    ہمارے گاؤں کے سب بزرگوں کا فیصلہ تھا

    ہمارا گاؤں بلند تر ہے

    ہمیں تباہی کا کیسا ڈر ہے

    مگر یہ شب جو گزر چکی ہے

    اس ایک شب میں

    ہمارے گاؤں میں جس قدر بھی

    چراغ روشن تھے بجھ گئے ہیں

    کہ بپھرے پانی کی تند لہریں

    اسے بھی تاراج کر کے آگے گزر گئی ہیں

    ہمارے بچے مگر ابھی تک

    بطوں کی صورت

    بپھرتی موجوں سے کھیلتے ہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے