ہمارا گاؤں ہمارے بچے
ہمارا گاؤں جو اونچے ٹیلے پہ کل کھڑا تھا
وہ جس کی تاریخ میں لکھا ہے کہ وہ ہمیشہ
گزرنے والے ہر ایک سیلاب پر ہنسا ہے
ہر ایک طوفان سے لڑا ہے
ہمارے گاؤں کے جتنے باسی تھے
سب کے سب مسکرا رہے تھے
ہمارے بچے
گزرتے سیلاب میں اتر کر
بطوں کی صورت نہا رہے تھے
ہمارے گاؤں کے سب بزرگوں کا فیصلہ تھا
ہمارا گاؤں بلند تر ہے
ہمیں تباہی کا کیسا ڈر ہے
مگر یہ شب جو گزر چکی ہے
اس ایک شب میں
ہمارے گاؤں میں جس قدر بھی
چراغ روشن تھے بجھ گئے ہیں
کہ بپھرے پانی کی تند لہریں
اسے بھی تاراج کر کے آگے گزر گئی ہیں
ہمارے بچے مگر ابھی تک
بطوں کی صورت
بپھرتی موجوں سے کھیلتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.