آخر فن
گیلی کچی چکنی مٹی
گوندھ کے تم چابکدستی سے
ڈھال کے صدہا نرم کھلونے
اپنے سخت سیہ ہاتھوں سے
تم بھی اہل ہنر بنتے ہو
گیلی کچی چکنی مٹی
کے یہ صدہا نرم کھلونے
اک ٹھوکر سے ٹوٹ گئے تو
باہر گلیوں میں پھینکو گے
اس مٹی کی تہ کے نیچے
اک سنگین چٹان کھڑی ہے
اس کو کاٹو اس کو تراشو
اور پھر اہل ہنر کہلاؤ
آخر فن بس ایک ہی مورت
جو صدیوں کے سیہ سینے پر
پتھریلے پاؤں کو رکھ کر
اک سنگین ابد بن جائے
ایک ہی صورت جو کامل ہو
عمر کی کاوش کا حاصل ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.