ہولی ہے
بھیگے چولی ٹوٹے گاگر ہولی ہے
آج تمہیں چھیڑیں گے جم کر ہولی ہے
آسمان بھی نیلا لال گلابی ہے
اندردھنش اترا ہے گھر گھر ہولی ہے
میراؔ اور رادھا دونوں کی اچھا ہے
مرلی بجاؤ مرلی منوہر ہولی ہے
رنگوں نے پہچان مٹا دی ہے سب کی
راجا پرجا ایک برابر ہولی ہے
بندش آج نہیں کوئی دل والوں پر
آنگن میں کھیلو یا چھت پر ہولی ہے
ورنداون میں رنگ ہیں بکھرے ٹیسو کے
مرلی دھر کی پریم دھروہر ہولی ہے
آج سبھی کو پیار کے رنگوں میں رنگ دیں
جھومیں بھانگ کے لڈو کھا کر ہولی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.