Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

لائبریری میں

رحمان فراز

لائبریری میں

رحمان فراز

MORE BYرحمان فراز

    سیاہ الفاظ کے سفینے

    مری کتابوں کی موج در موج ان سطور تپاں سے اک گہری سوچ کو پار اتارتے ہیں

    سیاہ الفاظ جو کسی نے

    بجھے زمانوں کی راکھ میں سے سلگتی چنگاریاں سمجھ کر اٹھا لیے ہیں

    کہ ان کی حدت سے عصر حاضر کا کوئی بجھتا الاؤ دہکے

    مرے نوادر

    یہ جن کا اک ایک حرف افکار کی جبینوں پہ ترمراتے عرق کا قطرہ

    یہ حرف جو گونجتی صدا ہیں

    یہ حرف جو ماہ و سال کے ڈھیر پر کھڑے ہیں

    یہی تو صدیوں کے دیوتا ہیں

    یہ میری الماریوں میں صدیوں پرانی تہذیب کا اثاثہ

    ہزار صناع لاکھ فن کار

    جن کی کلک گہر سے قرطاس روح پر وہ نقوش ابھرے

    جو جاوداں ہیں

    ہزار صدیوں کی داستاں ہیں

    بجھے زمانوں کی راکھ سے یہ سلگتی چنگاریاں اٹھا کر

    طویل تاریکیوں میں ہم آج چل رہے ہیں

    طویل تاریکیوں میں کھو جائیں گے ہم اک دن

    تو اپنی نوک قلم سے ٹپکے ہوئے فسانے

    خلاؤں میں پھیل جائیں گے صد ہزار صدیوں کی گونج بن کر

    یہ حرف جو گونجتی صدا ہیں

    یہی تو صدیوں کے دیوتا ہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے