لائبریری میں
سیاہ الفاظ کے سفینے
مری کتابوں کی موج در موج ان سطور تپاں سے اک گہری سوچ کو پار اتارتے ہیں
سیاہ الفاظ جو کسی نے
بجھے زمانوں کی راکھ میں سے سلگتی چنگاریاں سمجھ کر اٹھا لیے ہیں
کہ ان کی حدت سے عصر حاضر کا کوئی بجھتا الاؤ دہکے
مرے نوادر
یہ جن کا اک ایک حرف افکار کی جبینوں پہ ترمراتے عرق کا قطرہ
یہ حرف جو گونجتی صدا ہیں
یہ حرف جو ماہ و سال کے ڈھیر پر کھڑے ہیں
یہی تو صدیوں کے دیوتا ہیں
یہ میری الماریوں میں صدیوں پرانی تہذیب کا اثاثہ
ہزار صناع لاکھ فن کار
جن کی کلک گہر سے قرطاس روح پر وہ نقوش ابھرے
جو جاوداں ہیں
ہزار صدیوں کی داستاں ہیں
بجھے زمانوں کی راکھ سے یہ سلگتی چنگاریاں اٹھا کر
طویل تاریکیوں میں ہم آج چل رہے ہیں
طویل تاریکیوں میں کھو جائیں گے ہم اک دن
تو اپنی نوک قلم سے ٹپکے ہوئے فسانے
خلاؤں میں پھیل جائیں گے صد ہزار صدیوں کی گونج بن کر
یہ حرف جو گونجتی صدا ہیں
یہی تو صدیوں کے دیوتا ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.