پس حلقوم دل بجھاتی اذیت
درد ہجرت کی راہوں کا مارا ہوا
یاد نس نس میں فتنے پروتی ہوئی
خستگی بے حد و بے بہا خستگی
خواب کا بوجھ آنکھوں میں ڈھوتی ہوئی
دل مناجات کے غم کو سہتا ہوا
آنکھ احساس کا کرب ڈھوتی ہوئی
نیند کے آنگنوں میں دھری خامشی
ایک بے بس تمنا پہ روتی ہوئی
سن سکے کیا مری ذات کے مرثیے
خلق سوتی ہوئی
میری آنکھوں کو دیمک لگی ہجر کی
میرے خوابوں کو مسمار تو نے کیا
آرزو دفن ہوتی گئی کرب میں
ہر تمنا کو بے کار تو نے کیا
میں کہ کھلتے گلابوں کی مہکار تھا
میری خوشبو کو انگار تو نے کیا
میری آنکھوں میں افلاک کے خواب تھے
مجھ کو پستی سے دو چار تو نے کیا
تجھ سے کہتا ہوں المختصر بھیڑ دے
اب یہ در بھیڑ دے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.