صبح بنارس
یہ معصوم جلوے حسیں پیارے پیارے
زمیں پہ یہ اترے ہوئے چاند تارے
یہ شبنم یہ شعلے یہ گل یہ شرارے
یہ کون آ رہا ہے کنارے کنارے
یہ گنگا کا ساحل یہ دلکش نظارے
یہیں ڈوب جانے کو جی چاہتا ہے
خراماں خراماں حسینوں کا جھرمٹ
شباب آفریں نازنینوں کا جھرمٹ
تہہ آب بھی مہ جبینوں کا جھرمٹ
یہ روپ اور رنگت خدا کے سنوارے
یہ گنگا کا ساحل یہ دلکش نظارے
یہیں ڈوب جانے کو جی چاہتا ہے
یہ مستی میں کھوئی ہوئی سی نگاہیں
یہ جاگی یہ سوئی ہوئی سی نگاہیں
یہ شبنم سے دھوئی ہوئی سی نگاہیں
نظر جا رہی ہے نظر کے سہارے
یہ گنگا کا ساحل یہ دلکش نظارے
یہیں ڈوب جانے کو جی چاہتا ہے
یہ سحر آفریں زندگی کے فسانے
مچلتے ہوئے ساز دل کے ترانے
زمیں ہے کہ جنت یہ اللہ جانے
نظر میں ہے تسنیم و کوثر کے دھارے
یہ گنگا کا ساحل یہ دلکش نظارے
یہیں ڈوب جانے کو جی چاہتا ہے
نگاہوں میں شوخی لبوں پر دعائیں
تقدس میں گم کافرانہ ادائیں
مہکتی ہوائیں مچلتی فضائیں
نظر بھی ہماری ہے وہ بھی ہمارے
یہ گنگا کا ساحل یہ دلکش نظارے
یہیں ڈوب جانے کو جی چاہتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.