دلیپ کمار
ہے اداکاری تری یوں فلم میں جیسے کنول
جیسے جمنا کے کنارے سنگ مرمر کا محل
ہے ترا فن یوں جہاں میں جیسے غالبؔ کی غزل
ہے بلندی میں ہمالہ شخصیت تیری اٹل
یوں ہے پاکیزہ اداکاری کہ جیسے گنگا جل
بادشاہ فن بھی تو ہے اپنے فن کا ہے گگن
منفرد ہے شادمانی اور الگ رنج و سخن
یوں ہے اپنی ذات میں تنہا کہ جیسے انجمن
رزم گاہ زندگی میں زندگی ہے شاندار
ہر اداکاری میں تیری شخصیت ہے پر وقار
جگمگائے فلم جگنو جوار بھاٹا دیوداس
آن میں کیا شان ہے دیدار میں آنکھیں اداس
''مدھومتی'' پیغام میں سنگھرش میں نکھری ہے یاس
''مغل اعظم'' کی کہانی زندگی پر چھا گئی
گنگا جمنا گاؤں کی اچھی چھوی دکھلا گئی
فلم انڈسٹریز کا انمول ہے تو کوہ نور
جس نے بھی آزاد دیکھا دیکھا سوداگر ضرور
تیری فلموں کا دلوں پر اب بھی قائم ہے سرور
شاہکار فن کہیں جو فلم ہے تیری شہید
پیکر غم ہے کبھی تو اور کبھی تصویر عید
یہ سنا ہے دل سخی ہے یہ بھی خو اچھی لگی
اہل فن سے جب بھی کی ہے گفتگو اچھی لگی
تیرے گلزار ادب کے گل کی بو اچھی لگی
دے گئے تجھ کو دعا یہ حضرت رگھوپتی سہائے
تیری شہرت کا یہ سورج تا قیامت جگمگائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.