پانچ لہریں
احساس کمتری
میں گدا گر بھی نہیں بن سکتا
ایک بھی کلمہ تشکر کا ادا ہو نہ سکے گا مجھ سے
گونگا اوتار
اس کے منہ میں زباں نہیں لیکن
بیتے لمحات کے کنایوں میں
وقت پیغام دے رہا ہے ہمیں
انقلاب
جیب میں ہاتھ نظر میں ہے گلاب
شاخ گل جھوم کے اٹھی تو بدن کانپ گیا
سعادت حسن منٹو
ہر نئی تخلیق پر اک دوست کھو دیتا تھا میں
آخری لہر
جینا اچھا ہے کہ مرنا اچھا
کتنا اچھا تھا کہ پیدا ہی نہ ہوتے ہم تم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.