ایک نظم
جلتی ریت چمکتا سورج صحرا صحرا دھوپ
دھرتی کا اک روپ
راہ سے بھٹکا ایک مسافر قدم قدم گر جائے
دکھ کے بوجھ اٹھائے
بوند بوند پانی کو ترسے پاؤں پاؤں میں چھالے
کانٹوں کے رکھوالے
دور دور تک اک سناٹا دل کی دھڑکن بولے
بھید کسی کے کھولے
منزل منزل کے دھوکے میں منزل کس نے پائی
سوچ رہا ہے راہی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.