Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کردار

احمد فراز

کردار

احمد فراز

MORE BYاحمد فراز

    ہم ابھی استادہ تھے

    اب سے کچھ پہلے

    وفا کے فرش پایندہ پہ

    خوش وقتی کے رنگیں شامیانوں کے تلے

    اپنے ہاتھوں میں

    قرار و قول کی شمعیں لیے

    آندھیوں میں زلزلوں میں

    تا قیامت ساتھ دینے کے لیے آمادہ تھے

    اک دوسرے کے کس قدر دل دادہ تھے

    دیکھنے والوں میں شامل

    یار بھی اغیار بھی

    چند آنکھوں میں نمی

    چند آنکھوں میں حقارت برہمی

    چند آنکھوں میں سکوت دائمی

    جم گئے سائے ادھر

    اور کانپ اٹھی اس طرف دیوار بھی

    دشمنوں کو بھی یقیں

    اور بدگماں کچھ ہم نشیں غم خوار بھی

    دیکھنے والوں نے دیکھا

    کس طرح صدیاں اچانک ثانیوں میں بٹ گئیں

    شامیانوں کی طنابیں کٹ گئیں

    فرش پایندہ و مرمر کی سلیں بھی پھٹ گئیں

    اور وہ پیکر

    خود اپنے آپ

    خوں میں تر بتر

    خاک پر افتادہ تھے

    ہم ابھی استادہ تھے

    مأخذ :

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے