Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

زمین کی آخری صدا

غلام عباس ساغر

زمین کی آخری صدا

غلام عباس ساغر

MORE BYغلام عباس ساغر

    دنیا تھک چکی ہے

    زمین کی سانسیں اکھڑ گئی ہیں

    فضا میں کوئی مدھم سی فغاں سنائی دیتی ہے

    اور ہوا جو کبھی خوشبوؤں کی پیغامبر تھی

    اب بارود کی بو سے لبریز ہے

    شہر اندھیروں میں ڈوبتے جا رہے ہیں

    روشنیوں کے مینار اب ماتم کرتے ہیں

    گلیوں میں دوڑتے بچے آنکھوں میں خواب نہیں

    خوف کی پرچھائیاں لیے بھاگتے ہیں

    قلم رک گئے ہیں

    لفظ بوجھل ہو چکے ہیں

    صداقت کے قافلے لٹ گئے

    اور سچائی کے دیپ بجھتے چلے گئے

    ہر طرف چیخوں کا ایک ان دیکھے زخم کی طرح پھیلتا شور ہے

    جہاں کوئی کسی کی صدا پر پلٹ کر نہیں دیکھتا

    جہاں رشتے خریدے جاتے ہیں

    جہاں خلوص نیلام ہو چکا ہے

    دنیا کی میز پر سودے بازی ہو رہی ہے

    امن کی بولیاں لگ رہی ہیں

    انسانیت کی قیمت

    اب تیل اسلحہ اور سیاست کے کاغذوں میں طے ہوتی ہے

    بند دروازوں کے پیچھے فیصلے ہوتے ہیں

    اور کھلے میدانوں میں لاشیں گرتی ہیں

    جنہیں جینا تھا وہ دفن ہو چکے

    جنہیں مر جانا تھا وہ اقتدار کی کرسی پر بیٹھے ہیں

    کبھی زمین کو فصلوں سے مہکایا جاتا تھا

    اب لاشوں سے بھرا جا رہا ہے

    کبھی پانیوں پر محبت کے دیے بہتے تھے

    اب نفرت کی کشتیاں ڈوب رہی ہیں

    مائیں دعا کرتی ہیں

    کہ ان کے بچے جنگ کے سپاہی نہ بنیں

    کہ ان کے گھروں میں بمباری کی بارش نہ ہو

    کہ ان کے خواب محفوظ رہیں

    مگر وقت بہرا ہو چکا ہے

    دعا کی صدا دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہے

    یہ دنیا

    اب اپنی کہانی کا اختتام خود لکھ رہی ہے

    خون سے آنسوؤں سے

    اور حسرتوں کی اجڑی ہوئی روشنائی سے

    کاش کوئی پھر سے

    ان زخموں پر محبت کا مرہم رکھ دے

    کاش کوئی پھر سے

    ان ویران راستوں پر زندگی کی خوشبو بکھیر دے

    کاش

    کوئی پھر سے

    دنیا کو انسانیت کا سبق یاد کرا دے

    دنیا تھک چکی ہے دنیا تھک چکی ہے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے