زمین کی آخری صدا
دنیا تھک چکی ہے
زمین کی سانسیں اکھڑ گئی ہیں
فضا میں کوئی مدھم سی فغاں سنائی دیتی ہے
اور ہوا جو کبھی خوشبوؤں کی پیغامبر تھی
اب بارود کی بو سے لبریز ہے
شہر اندھیروں میں ڈوبتے جا رہے ہیں
روشنیوں کے مینار اب ماتم کرتے ہیں
گلیوں میں دوڑتے بچے آنکھوں میں خواب نہیں
خوف کی پرچھائیاں لیے بھاگتے ہیں
قلم رک گئے ہیں
لفظ بوجھل ہو چکے ہیں
صداقت کے قافلے لٹ گئے
اور سچائی کے دیپ بجھتے چلے گئے
ہر طرف چیخوں کا ایک ان دیکھے زخم کی طرح پھیلتا شور ہے
جہاں کوئی کسی کی صدا پر پلٹ کر نہیں دیکھتا
جہاں رشتے خریدے جاتے ہیں
جہاں خلوص نیلام ہو چکا ہے
دنیا کی میز پر سودے بازی ہو رہی ہے
امن کی بولیاں لگ رہی ہیں
انسانیت کی قیمت
اب تیل اسلحہ اور سیاست کے کاغذوں میں طے ہوتی ہے
بند دروازوں کے پیچھے فیصلے ہوتے ہیں
اور کھلے میدانوں میں لاشیں گرتی ہیں
جنہیں جینا تھا وہ دفن ہو چکے
جنہیں مر جانا تھا وہ اقتدار کی کرسی پر بیٹھے ہیں
کبھی زمین کو فصلوں سے مہکایا جاتا تھا
اب لاشوں سے بھرا جا رہا ہے
کبھی پانیوں پر محبت کے دیے بہتے تھے
اب نفرت کی کشتیاں ڈوب رہی ہیں
مائیں دعا کرتی ہیں
کہ ان کے بچے جنگ کے سپاہی نہ بنیں
کہ ان کے گھروں میں بمباری کی بارش نہ ہو
کہ ان کے خواب محفوظ رہیں
مگر وقت بہرا ہو چکا ہے
دعا کی صدا دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہے
یہ دنیا
اب اپنی کہانی کا اختتام خود لکھ رہی ہے
خون سے آنسوؤں سے
اور حسرتوں کی اجڑی ہوئی روشنائی سے
کاش کوئی پھر سے
ان زخموں پر محبت کا مرہم رکھ دے
کاش کوئی پھر سے
ان ویران راستوں پر زندگی کی خوشبو بکھیر دے
کاش
کوئی پھر سے
دنیا کو انسانیت کا سبق یاد کرا دے
دنیا تھک چکی ہے دنیا تھک چکی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.