میرے پست ارادے
لاکھوں چاند کروڑوں سورج اربوں تارے
ابد کے پیپل کے ٹہنوں میں گھونسلے ڈالے
بیٹھے
دیکھ رہے ہیں
کچھ کیڑے ہیں
اپنے اپنے ڈنک اٹھائے دانت نکالے پنجوں پر زہراب چڑھائے
کس کو ماریں کس کو چیریں کس کو پھاڑیں کس کو کھائیں
کس کے لہو سے پیاس بجھائیں
کون تھکا ہے
کون گرا ہے
ابد کے پیپل کا پھیلاؤ
میرے پست ارادوں کالے بھتنوں کا مرگھٹ ہے
پیلی چڑیلوں کا مرگھٹ ہے
جن کو میں نے پسلی توڑ کے جنم دیا
آرزوؤں نے کیسے کیسے سوانگ بھرے
کالے بھتنے پیلی چڑیلیں جب من چاہیں جی اٹھتے ہیں
بھیانک ساے میرا پیچھا کرتے ہیں
چیختی چیلیں میری آنکھیں نوچتی ہیں
اندھا بہرا گونگا
مٹی کا اک تودہ
میں منہ ڈھانپے سوچ رہا ہوں
کس کل جگ سے آیا ہوں
یہ کیسا کل جگ ہے
کس کل جگ کو جاؤں گا
لاکھوں چاند کروڑوں سورج اربوں تارے
دیکھ رہے ہیں
ان سے ورا کچھ ہے کہ نہیں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.