Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

میرے پست ارادے

احمد بشیر

میرے پست ارادے

احمد بشیر

MORE BYاحمد بشیر

    لاکھوں چاند کروڑوں سورج اربوں تارے

    ابد کے پیپل کے ٹہنوں میں گھونسلے ڈالے

    بیٹھے

    دیکھ رہے ہیں

    کچھ کیڑے ہیں

    اپنے اپنے ڈنک اٹھائے دانت نکالے پنجوں پر زہراب چڑھائے

    کس کو ماریں کس کو چیریں کس کو پھاڑیں کس کو کھائیں

    کس کے لہو سے پیاس بجھائیں

    کون تھکا ہے

    کون گرا ہے

    ابد کے پیپل کا پھیلاؤ

    میرے پست ارادوں کالے بھتنوں کا مرگھٹ ہے

    پیلی چڑیلوں کا مرگھٹ ہے

    جن کو میں نے پسلی توڑ کے جنم دیا

    آرزوؤں نے کیسے کیسے سوانگ بھرے

    کالے بھتنے پیلی چڑیلیں جب من چاہیں جی اٹھتے ہیں

    بھیانک ساے میرا پیچھا کرتے ہیں

    چیختی چیلیں میری آنکھیں نوچتی ہیں

    اندھا بہرا گونگا

    مٹی کا اک تودہ

    میں منہ ڈھانپے سوچ رہا ہوں

    کس کل جگ سے آیا ہوں

    یہ کیسا کل جگ ہے

    کس کل جگ کو جاؤں گا

    لاکھوں چاند کروڑوں سورج اربوں تارے

    دیکھ رہے ہیں

    ان سے ورا کچھ ہے کہ نہیں ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے