ابھر رہا ہے ہر اک شے سے نور کیا کہئے
ابھر رہا ہے ہر اک شے سے نور کیا کہئے
محمد عربی کا ظہور کیا کہئے
ہمارے احمد مرسل کے نام نامی پر
درود بھیجے ہے رب غفور کیا کہئے
ہم انتظار شفاعت کے تھے تمنائی
سروں پہ آ گیا یوم النشور کیا کہئے
عمر ہوں چاہے ابوبکر اور عثمان علی
ہر اک تھا ان میں فدائے حضور کیا کہئے
جمیلؔ عشق محمد میں غرق ہوں جب سے
ہیں منتظر مرے حور و قصور کیا کہئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.