Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دل ہے بیمار مرا اور یہ دوا چاہتا ہے

فرحان خان فرحان

دل ہے بیمار مرا اور یہ دوا چاہتا ہے

فرحان خان فرحان

MORE BYفرحان خان فرحان

    دل ہے بیمار مرا اور یہ دوا چاہتا ہے

    میرے سرکار مدینے کی فضا چاہتا ہے

    امتی آپ کا بیمار و گنہگار ہے پر

    آپ کے دست کرم سے یہ شفا چاہتا ہے

    ہم کو پروا نہیں جنت کے حسیں باغوں کی

    دل مدینے کی فقط آب و ہوا چاہتا ہے

    آخری وقت اسے آپ کا دیدار ملے

    میرے آقا یہ غلام اتنی عطا چاہتا ہے

    تاکہ ہو جائے بہت اپنے خدا سے یہ قریب

    دل مرا قربت محبوب خدا چاہتا ہے

    کاش آقا یہ مرے خواب میں آ کر پوچھیں

    میرے فرحانؔ بتا اور تو کیا چاہتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے