دل ہے بیمار مرا اور یہ دوا چاہتا ہے
دل ہے بیمار مرا اور یہ دوا چاہتا ہے
میرے سرکار مدینے کی فضا چاہتا ہے
امتی آپ کا بیمار و گنہگار ہے پر
آپ کے دست کرم سے یہ شفا چاہتا ہے
ہم کو پروا نہیں جنت کے حسیں باغوں کی
دل مدینے کی فقط آب و ہوا چاہتا ہے
آخری وقت اسے آپ کا دیدار ملے
میرے آقا یہ غلام اتنی عطا چاہتا ہے
تاکہ ہو جائے بہت اپنے خدا سے یہ قریب
دل مرا قربت محبوب خدا چاہتا ہے
کاش آقا یہ مرے خواب میں آ کر پوچھیں
میرے فرحانؔ بتا اور تو کیا چاہتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.