باپ بیٹے نے جو کعبے میں لگائے پتھر
باپ بیٹے نے جو کعبے میں لگائے پتھر
ہم کئی بار وہی چوم کے آئے پتھر
ریت ایسی ہی چلی آئی ہے دنیا میں سدا
کہ جو پھل دار شجر ہو وہی کھائے پتھر
بات حق کی تھی سر عام جو کہہ دی میں نے
اب تو اپنا بھی پرایا بھی اٹھائے پتھر
دودھ کی نہر پہاڑوں سے نکالے فرہاد
اپنی لیلیٰ کے لئے قیس نے کھائے پتھر
سنگ دل روتے نہیں کہتی ہے اکثر دنیا
آبشاروں سے مگر اشک بہائے پتھر
ٹھوکریں کھانے سے بچ جائے وہی اے مہروؔ
چلتے چلتے جو سر راہ اٹھائے پتھر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.