عشق کو یوں نبھانا پڑے گا
عشق کو یوں نبھانا پڑے گا
زخم سینے پہ کھانا پڑے گا
جینا ہے گر سکوں سے یہاں تو
دل کو پتھر بنانا پڑے گا
یہ سفر ہوگا مشکل بھی کافی
دور جب تم سے جانا پڑے گا
شرط منظور ہے یہ تو جاؤ
جب بلائیں تو آنا پڑے گا
داستاں جب سنانی ہو اپنی
پھر قلم تو اٹھانا پڑے گا
جب منانا خدا کو ہو رازیؔ
سجدے میں سر جھکانا پڑے گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.