درد دل کا مسلسل بدلتا رہا
درد دل کا مسلسل بدلتا رہا
رت بدلتی رہی پھل بدلتا رہا
جانے کیا الجھنیں تھیں کہ میں رات بھر
ٹیلی ویژن میں چینل بدلتا رہا
تیرگی میں ٹھٹھرتا رہا اک شجر
رات بھر چاند کمبل بدلتا رہا
بوڑھی اماں کے دکھ کی دوا تھی کہاں
چارہ گر پھر بھی بوتل بدلتا رہا
نیند گاؤں کے دالان میں رہ گئی
شہر آ کر میں ہوٹل بدلتا رہا
پیاس مٹی کی جیسی تھی ویسی رہی
آسماں روز بادل بدلتا رہا
عمر بھر سر پہ سایہ رہا زخم کا
یہ الگ بات آنچل بدلتا رہا
کیا خبر تھی کہ پڑ جائیں گے آبلے
میں تو پیروں میں چپل بدلتا رہا
گاؤں جاتے سبھی راستے مٹ گئے
بارشوں میں یوں جنگل بدلتا رہا
ایک چہرے کی معصومیت دیکھ کر
رنگ ساگرؔ کا ہر پل بدلتا رہا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.