Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یہ سرد راتیں بھی بن کر ابھی دھواں اڑ جائیں

راحت اندوری

یہ سرد راتیں بھی بن کر ابھی دھواں اڑ جائیں

راحت اندوری

یہ سرد راتیں بھی بن کر ابھی دھواں اڑ جائیں

وہ اک لحاف میں اوڑھوں تو سردیاں اڑ جائیں

خدا کا شکر کہ میرا مکاں سلامت ہے

ہیں اتنی تیز ہوائیں کہ بستیاں اڑ جائیں

زمیں سے ایک تعلق نے باندھ رکھا ہے

بدن میں خون نہیں ہو تو ہڈیاں اڑ جائیں

بکھر بکھر سی گئی ہے کتاب سانسوں کی

یہ کاغذات خدا جانے کب کہاں اڑ جائیں

رہے خیال کہ مجذوب عشق ہیں ہم لوگ

اگر زمین سے پھونکیں تو آسماں اڑ جائیں

ہوائیں باز کہاں آتی ہیں شرارت سے

سروں پہ ہاتھ نہ رکھیں تو پگڑیاں اڑ جائیں

بہت غرور ہے دریا کو اپنے ہونے پر

جو میری پیاس سے الجھے تو دھجیاں اڑ جائیں

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے