Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یہ محبت کا جو انبار پڑا ہے مجھ میں

انجم سلیمی

یہ محبت کا جو انبار پڑا ہے مجھ میں

انجم سلیمی

یہ محبت کا جو انبار پڑا ہے مجھ میں

اس لیے ہے کہ مرا یار پڑا ہے مجھ میں

چھینٹ اک اڑ کے مری آنکھ میں آئی تو کھلا

ایک دریا ابھی تہہ دار پڑا ہے مجھ میں

میری پیشانی پہ اس بل کی جگہ ہے ہی نہیں

صبر کے ساتھ جو ہموار پڑا ہے مجھ میں

ہر تعلق کو محبت سے نبھا لیتا ہے

دل ہے یا کوئی اداکار پڑا ہے مجھ میں

میرا دامن بھی کوئی دست ہوس کھینچتا ہے

ایک میرا بھی خریدار پڑا ہے مجھ میں

کس نے آباد کیا ہے مری ویرانی کو

عشق نے؟ عشق تو بیمار پڑا ہے مجھ میں

میرے اکسانے پہ میں نے مجھے برباد کیا

میں نہیں میرا گنہ گار پڑا ہے مجھ میں

مشورہ لینے کی نوبت ہی نہیں آ پاتی

ایک سے ایک سمجھ دار پڑا ہے مجھ میں

اے برابر سے گزرتے ہوئے دکھ تھم تو سہی

تجھ پہ رونے کو عزا دار پڑا ہے مجھ میں

میرا ہونا مرے ہونے کی گواہی تو نہیں

میرے آگے مرا انکار پڑا ہے مجھ میں

بھوک ایسی ہے کہ میں خود کو بھی کھا سکتا ہوں

کیسا یہ قحط لگاتار پڑا ہے مجھ میں

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے