Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہمارے زخم تمنا پرانے ہو گئے ہیں

جون ایلیا

ہمارے زخم تمنا پرانے ہو گئے ہیں

جون ایلیا

ہمارے زخم تمنا پرانے ہو گئے ہیں

کہ اس گلی میں گئے اب زمانے ہو گئے ہیں

تم اپنے چاہنے والوں کی بات مت سنیو

تمہارے چاہنے والے دوانے ہو گئے ہیں

وہ زلف دھوپ میں فرقت کی آئی ہے جب یاد

تو بادل آئے ہیں اور شامیانے ہو گئے ہیں

جو اپنے طور سے ہم نے کبھی گزارے تھے

وہ صبح و شام تو جیسے فسانے ہو گئے ہیں

عجب مہک تھی مرے گل ترے شبستاں کی

سو بلبلوں کے وہاں آشیانے ہو گئے ہیں

ہمارے بعد جو آئیں انہیں مبارک ہو

جہاں تھے کنج وہاں کارخانے ہو گئے ہیں

ویڈیو
This video is playing from YouTube

Videos
This video is playing from YouTube

جون ایلیا

جون ایلیا

جون ایلیا

جون ایلیا

RECITATIONS

نعمان شوق

نعمان شوق,

نعمان شوق

ہمارے زخم تمنا پرانے ہو گئے ہیں نعمان شوق

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے