Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہم آندھیوں کے بن میں کسی کارواں کے تھے

جون ایلیا

ہم آندھیوں کے بن میں کسی کارواں کے تھے

جون ایلیا

دلچسپ معلومات

پاکستان سے اپنے آبائی شہر امروہہ میں جب جون ایلیا آئے تو بڑا جذباتی منظر تھا ۔۔

ہم آندھیوں کے بن میں کسی کارواں کے تھے

جانے کہاں سے آئے ہیں جانے کہاں کے تھے

اے جان داستاں تجھے آیا کبھی خیال

وہ لوگ کیا ہوئے جو تری داستاں کے تھے

ہم تیرے آستاں پہ یہ کہنے کو آئے ہیں

وہ خاک ہو گئے جو ترے آستاں کے تھے

مل کر تپاک سے نہ ہمیں کیجیے اداس

خاطر نہ کیجیے کبھی ہم بھی یہاں کے تھے

کیا پوچھتے ہو نام و نشان مسافراں

ہندوستاں میں آئے ہیں ہندوستاں کے تھے

اب خاک اڑ رہی ہے یہاں انتظار کی

اے دل یہ بام و در کسی جان جہاں کے تھے

ہم کس کو دیں بھلا در و دیوار کا حساب

یہ ہم جو ہیں زمیں کے نہ تھے آسماں کے تھے

ہم سے چھنا ہے ناف پیالہ ترا میاں

گویا ازل سے ہم صف لب تشنگاں کے تھے

ہم کو حقیقتوں نے کیا ہے خراب و خوار

ہم خواب خواب اور گمان گماں کے تھے

صد یاد یاد جونؔ وہ ہنگام دل کہ جب

ہم ایک گام کے نہ تھے پر ہفت خواں کے تھے

وہ رشتہ ہائے ذات جو برباد ہو گئے

میرے گماں کے تھے کہ تمہارے گماں کے تھے

مأخذ :
  • کتاب : yani (Pg. 115)

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have exhausted your 5 free content pages. Please Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے