تیرے خطوط کے پرزے شمار کرتے ہوئے
تیرے خطوط کے پرزے شمار کرتے ہوئے
پھپھک کے رویا میں تحفے شمار کرتے ہوئے
میں چاہتا ہوں مرے گھر کے پاس جنگل ہو
میں دن گزاروں پرندے شمار کرتے ہوئے
بس اتنا پڑھنا ہے مجھ کو کہ پاس ہو جاؤں
کتاب پڑھتا ہوں صفحے شمار کرتے ہوئے
میں آج ہار کر آیا پھر ایک آہ بھری
پرانی جیت کے تمغے شمار کرتے ہوئے
ہماری گنتی میں بس والدین آتے ہیں
جہان بھر میں سے اپنے شمار کرتے ہوئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.