اتنا دماغ پر ہے اثر حال زار کا
اتنا دماغ پر ہے اثر حال زار کا
قصہ بیاں ہوا نہ دل داغدار کا
توصیف کب ہوئی ہے کسی بے شعور کی
کرتا ہے احترام جہاں ہوشیار کا
کیوں ڈگمگا رہے ہیں قدم راہ زیست میں
کیا آپ کو خیال ہے اپنے وقار کا
اڑتی ہے ریت آگ کا طوفاں لیے ہوئے
نقشہ بدل سکا نہ کوئی ریگ زار کا
گر ہو سکے تو اور عطا کیجیے نمود
رتبہ گھٹائیے نہ کسی نامدار کا
چھونے لگا ہے چاند ستاروں کی سرحدیں
کتنی بلندیوں پہ ہے رتبہ غبار کا
آتشؔ وفا پرست نہیں ہوتے سرنگوں
سارے جہاں میں ذکر ہے ان کے وقار کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.