Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہر وقت مصلحت کی نمائش فضول ہے

حبیب ندیم

ہر وقت مصلحت کی نمائش فضول ہے

حبیب ندیم

MORE BYحبیب ندیم

    ہر وقت مصلحت کی نمائش فضول ہے

    سچ کے لیے صفائی کی خواہش فضول ہے

    جو خود غبار وہم میں گم ہے خموش ہے

    اس کے لیے دلیل کی کاوش فضول ہے

    جب شہر کے چراغ ہی اپنے نہ ہو سکے

    سورج سے روشنی کی گزارش فضول ہے

    آواز جب خرید لی دولت کے زور پر

    پھر عدل میں گواہ کی خواہش فضول ہے

    سب کچھ تو پہلے کاتب تقدیر لکھ چکا

    اے آدمی یہاں تری سازش فضول ہے

    جب دھوپ کے پجاری کھڑے ہیں جہاں تہاں

    سائے کی اب کسی سے نوازش فضول ہے

    تلوار پر رکھی گئی گردن غریب کی

    قاتل کا حکم ہے ابھی جنبش فضول ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے