ہر وقت مصلحت کی نمائش فضول ہے
ہر وقت مصلحت کی نمائش فضول ہے
سچ کے لیے صفائی کی خواہش فضول ہے
جو خود غبار وہم میں گم ہے خموش ہے
اس کے لیے دلیل کی کاوش فضول ہے
جب شہر کے چراغ ہی اپنے نہ ہو سکے
سورج سے روشنی کی گزارش فضول ہے
آواز جب خرید لی دولت کے زور پر
پھر عدل میں گواہ کی خواہش فضول ہے
سب کچھ تو پہلے کاتب تقدیر لکھ چکا
اے آدمی یہاں تری سازش فضول ہے
جب دھوپ کے پجاری کھڑے ہیں جہاں تہاں
سائے کی اب کسی سے نوازش فضول ہے
تلوار پر رکھی گئی گردن غریب کی
قاتل کا حکم ہے ابھی جنبش فضول ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.