دے آنکھ آنکھ میں صورت مری دکھائی مجھے
دے آنکھ آنکھ میں صورت مری دکھائی مجھے
بھنور بھنور لیے پھرتی ہے خود نمائی مجھے
نظر میں نت نئے زخموں کے ذائقے مہکیں
ہوئی ہے جب سے میسر برہنہ پائی مجھے
گھرا ہے کون مسافر رگوں کے جنگل میں
بدن میں دیتی ہے کس کی صدا سنائی مجھے
گزرتے ابر کا سایہ ہے چیتھڑے کی طرح
برہنہ کھیت لگیں کاسۂ گدائی مجھے
میں آسماں کی طرف جب بھی ہاتھ پھیلاؤں
زمین دینے لگے طعن بے وفائی مجھے
متاع زیست ہے رزمیؔ وہ داغ مہجوری
دیا ہے جس نے شعور غزل سرائی مجھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.