Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مجھ دوانے کی سکونت کے لیے کافی ہے

فہیم ضیا

مجھ دوانے کی سکونت کے لیے کافی ہے

فہیم ضیا

MORE BYفہیم ضیا

    مجھ دوانے کی سکونت کے لیے کافی ہے

    دشت در دشت یہ وحشت کے لیے کافی ہے

    میں نے کب تجھ سے خدا چاند ستارے مانگے

    اک دیا رات کی ظلمت کے لیے کافی ہے

    وصل کی شام ترے ہجر کا در وا ہوگا

    یہ خوشی دل کی اذیت کے لیے کافی ہے

    دشت میں خاک اڑانے نہیں جاتا میں اب

    میرا حجرہ مری وحشت کے لیے کافی ہے

    جھانکتا ہوں تو نظر ارض و سما آتے ہیں

    دل کا آئینہ ہی حیرت کے لیے کافی ہے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے