مجھ دوانے کی سکونت کے لیے کافی ہے
مجھ دوانے کی سکونت کے لیے کافی ہے
دشت در دشت یہ وحشت کے لیے کافی ہے
میں نے کب تجھ سے خدا چاند ستارے مانگے
اک دیا رات کی ظلمت کے لیے کافی ہے
وصل کی شام ترے ہجر کا در وا ہوگا
یہ خوشی دل کی اذیت کے لیے کافی ہے
دشت میں خاک اڑانے نہیں جاتا میں اب
میرا حجرہ مری وحشت کے لیے کافی ہے
جھانکتا ہوں تو نظر ارض و سما آتے ہیں
دل کا آئینہ ہی حیرت کے لیے کافی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.