Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

لیے پھرتا ہے در بدر مجھ کو

محمد نسیم قریشی

لیے پھرتا ہے در بدر مجھ کو

محمد نسیم قریشی

MORE BYمحمد نسیم قریشی

    لیے پھرتا ہے در بدر مجھ کو

    کیسا درپیش ہے سفر مجھ کو

    اتنی وحشت ہے میری آنکھوں میں

    خود سے لگنے لگا ہے ڈر مجھ کو

    کیسے کیسے گلاب سے چہرے

    یاد آئے ہیں دار پر مجھ کو

    وہ تلاش سحر میں نکلا ہے

    ان اندھیروں میں چھوڑ کر مجھ کو

    ایسے دوزخ میں جل چکا ہوں میں

    اشک لگتے ہیں اب گہر مجھ کو

    گھر کو دیکھا تو کتنی شدت سے

    یاد آنے لگے کھنڈر مجھ کو

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے