لیے پھرتا ہے در بدر مجھ کو
لیے پھرتا ہے در بدر مجھ کو
کیسا درپیش ہے سفر مجھ کو
اتنی وحشت ہے میری آنکھوں میں
خود سے لگنے لگا ہے ڈر مجھ کو
کیسے کیسے گلاب سے چہرے
یاد آئے ہیں دار پر مجھ کو
وہ تلاش سحر میں نکلا ہے
ان اندھیروں میں چھوڑ کر مجھ کو
ایسے دوزخ میں جل چکا ہوں میں
اشک لگتے ہیں اب گہر مجھ کو
گھر کو دیکھا تو کتنی شدت سے
یاد آنے لگے کھنڈر مجھ کو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.