ہیبت طاری جسم ہے لرزہ بر اندام
ہیبت طاری جسم ہے لرزہ بر اندام
رات سمندر سے لوٹ آئے تشنہ کام
سانس کی ہاؤ ہو پہ میں نے کان دھرے
ایک ہی لے میں لیتی ہے یہ تیرا نام
ساری وحشت اس کے عدم سے ہے موجود
رات تو بس یوں ہی ہو جاتی ہے بدنام
اور قیامت کیا ہوگی ان سب کے بعد
اس کا لہجہ اس کی باتیں اس کا نام
اپنے تئیں ہم آج بھی پیچھے ہیں لیکن
زود پشیماں زود پریشاں برق خرام
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.