نکالیے نئے ظلم و ستم کی گنجائش
نکالیے نئے ظلم و ستم کی گنجائش
ابھی ہے اور مرے دل میں غم کی گنجائش
وفا کی راہ کبھی ختم ہی نہیں ہوتی
ہر اک قدم پہ ہے اور اک قدم کی گنجائش
ہزاروں سال سے آنسو بہائی جاتی ہے
مگر نہ ختم ہوئی چشم نم کی گنجائش
ہنسی کے ساتھ ہی آنکھوں میں آ گئے آنسو
چھپی ہوئی تھی خوشی میں بھی غم کی گنجائش
رہے خیال مقدر سنوارنے والے
نہ رہنے پائے کسی پیچ و خم کی گنجائش
ہماری سانس بڑے دکھ کے ساتھ ٹوٹ گئی
ذرا بھی جب نہ رہی زیر و بم کی گنجائش
ہجوم جلوۂ اصنام ہے نظر میں عدیلؔ
مگر ہے دل میں فقط اک صنم کی گنجائش
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.