میرے دشمن کے لیے آخری ہتھیار بنا
میرے دشمن کے لیے آخری ہتھیار بنا
پھر نشانہ مرے محسن مرا کردار بنا
عزم و ہمت کو تو اپنے لئے پتوار بنا
اور کردار کو سورج سا چمکدار بنا
جس کو چاہا تھا دل و جان سے بڑھ کر میں نے
وہ مرا دوست ہی غیروں کا طرفدار بنا
میں نے سچ بول کے ہر بار سزا پائی ہے
جھوٹ بولا تو زمانہ مرا غم خوار بنا
میری خاموشی کو کمزوری سمجھنے والو
وقت پڑنے پہ یہی صبر تھا تلوار بنا
جس کو سینے سے لگایا تھا سمجھ کر اپنا
چند لمحوں میں وہی درد کا بازار بنا
ہم نے ہر بار نبھائی تھی جو چاہت دل سے
اسی چاہت کا تماشہ ہی تو ہر بار بنا
جس پہ کرتے تھے بھروسہ وہی دل توڑ گیا
پھر وہی شخص مرے غم کا خریدار بنا
جس نے شدت سے کسی فن پہ مشقت کی ہو
پھر وہی شخص زمانے میں ہے فنکار بنا
ہم نے محنت سے سنوارا ہے مقدر اپنا
خواب پھر وہ ہی حقیقت کا طلبگار بنا
اپنے اخلاق کو پہچان بنا کر ظاہرؔ
سب کی نظروں میں تو ہی صاحب کردار بنا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.