مخفی تھا عشق آج مگر آشکار ہے
مخفی تھا عشق آج مگر آشکار ہے
اے دل نشیں کسی کو ترا انتظار ہے
کیسے کہیں کہ باغ وفا خار دار ہے
دیکھا ہے ہم نے تیری قسم لالہ زار ہے
ناداں ہے دل لگی پہ مرا دل نثار ہے
ہائے ستم لباس بدن تار تار ہے
رخ پر نقاب خوب ہے پر کیا کریں جناب
دیدار حسن یار کو دل بے قرار ہے
کوشش تو ہم نے کی تھی کہ چاہیں نہ آپ کو
دل پر مگر کسی کا کہاں اختیار ہے
مے مختلف سبھی کی ہے ساغر بھی مختلف
پھر بھی ہر ایک شخص یہاں بادہ خوار ہے
اخترؔ بلند کر نہیں سکتی صدائے حق
وہ قوم جس کی روح نظر داغ دار ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.