Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مخفی تھا عشق آج مگر آشکار ہے

شعیب اختر

مخفی تھا عشق آج مگر آشکار ہے

شعیب اختر

MORE BYشعیب اختر

    مخفی تھا عشق آج مگر آشکار ہے

    اے دل نشیں کسی کو ترا انتظار ہے

    کیسے کہیں کہ باغ وفا خار دار ہے

    دیکھا ہے ہم نے تیری قسم لالہ زار ہے

    ناداں ہے دل لگی پہ مرا دل نثار ہے

    ہائے ستم لباس بدن تار تار ہے

    رخ پر نقاب خوب ہے پر کیا کریں جناب

    دیدار حسن یار کو دل بے قرار ہے

    کوشش تو ہم نے کی تھی کہ چاہیں نہ آپ کو

    دل پر مگر کسی کا کہاں اختیار ہے

    مے مختلف سبھی کی ہے ساغر بھی مختلف

    پھر بھی ہر ایک شخص یہاں بادہ خوار ہے

    اخترؔ بلند کر نہیں سکتی صدائے حق

    وہ قوم جس کی روح نظر داغ دار ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے