کسی کے نقش کف پا پہ چل رہا ہوں میں
کسی کے نقش کف پا پہ چل رہا ہوں میں
ہر ایک گام پہ گر کر سنبھل رہا ہوں میں
جبیں پہ خاک در یار مل رہا ہوں میں
اسی طرح سے مقدر بدل رہا ہوں میں
یہ کیسی آگ ہے تم مجھ سے پوچھتے کیا ہو
حرارت غم دوراں سے جل رہا ہوں میں
تری خوشی کے لیے تیری باریابی کو
ہر ایک رنگ کے سانچے میں ڈھل رہا ہوں میں
صنم کدے میں کبھی میکدے حرم میں کبھی
تری تلاش میں برسوں سے چل رہا ہوں میں
ہے جو بھی جیسا بھی میکشؔ مگر تمہارا ہے
بچا لو پار جنوں کے نکل رہا ہوں میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.