وہ خوف تھا کہ جسے خامشی میں دیکھا گیا
وہ خوف تھا کہ جسے خامشی میں دیکھا گیا
انا نژاد بہت بے بسی میں دیکھا گیا
چھپایا کرب جو مشکل سے تھا پس چہرہ
وہ درد و یاس کی بے چہرگی میں دیکھا گیا
جو منحرف تھے زمانے میں سچ کی طاقت سے
انہیں کے جھوٹ کو اک دن نفی میں دیکھا گیا
کبھی وہ شہر بھی جگنو سا جگمگاتا تھا
مگر یہ پل کہ اسے تیرگی میں دیکھا گیا
میں بانٹتی رہی بے لوث چاہتیں ہر دم
مرے خلوص کو میری کمی میں دیکھا گیا
اداس رات کی بھیگی سی پہلی بارش کو
کسی کی آنکھ کی پھیلی نمی میں دیکھا گیا
دکھوں کی سبز جڑیں کم نسب نہیں ہوتیں
انہیں تو روح کی بالیدگی میں دیکھا گیا
ہر ایک ماں کو وراثت میں اشک ملتے ہیں
سو چارہ گر کو ہی بے چارگی میں دیکھا گیا
حسیں گھروں پہ لکھی چار سو ہے دربدری
سو ہجرتوں کو اسی بے گھری میں دیکھا گیا
مرے قلم نے لکھے جبر و ظلم دنیا کے
ہر ایک درد مری شاعری میں دیکھا گیا
جو باٹ جھوٹ کا میزان حق پہ رکھا تھا
غزلؔ کا سچ بھی اسی کج روی میں دیکھا گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.