Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

وہ خوف تھا کہ جسے خامشی میں دیکھا گیا

ذکیہ غزل

وہ خوف تھا کہ جسے خامشی میں دیکھا گیا

ذکیہ غزل

MORE BYذکیہ غزل

    وہ خوف تھا کہ جسے خامشی میں دیکھا گیا

    انا نژاد بہت بے بسی میں دیکھا گیا

    چھپایا کرب جو مشکل سے تھا پس چہرہ

    وہ درد و یاس کی بے چہرگی میں دیکھا گیا

    جو منحرف تھے زمانے میں سچ کی طاقت سے

    انہیں کے جھوٹ کو اک دن نفی میں دیکھا گیا

    کبھی وہ شہر بھی جگنو سا جگمگاتا تھا

    مگر یہ پل کہ اسے تیرگی میں دیکھا گیا

    میں بانٹتی رہی بے لوث چاہتیں ہر دم

    مرے خلوص کو میری کمی میں دیکھا گیا

    اداس رات کی بھیگی سی پہلی بارش کو

    کسی کی آنکھ کی پھیلی نمی میں دیکھا گیا

    دکھوں کی سبز جڑیں کم نسب نہیں ہوتیں

    انہیں تو روح کی بالیدگی میں دیکھا گیا

    ہر ایک ماں کو وراثت میں اشک ملتے ہیں

    سو چارہ گر کو ہی بے چارگی میں دیکھا گیا

    حسیں گھروں پہ لکھی چار سو ہے دربدری

    سو ہجرتوں کو اسی بے گھری میں دیکھا گیا

    مرے قلم نے لکھے جبر و ظلم دنیا کے

    ہر ایک درد مری شاعری میں دیکھا گیا

    جو باٹ جھوٹ کا میزان حق پہ رکھا تھا

    غزلؔ کا سچ بھی اسی کج روی میں دیکھا گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے