Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

وہ گھر کے آیا گھٹاؤں کی تیرگی کی طرح

سجاد باقر رضوی

وہ گھر کے آیا گھٹاؤں کی تیرگی کی طرح

سجاد باقر رضوی

وہ گھر کے آیا گھٹاؤں کی تیرگی کی طرح

برس پڑا مرے آنگن میں چاندنی کی طرح

وہ جس کے واسطے اک حرف مدعا نہ ملا

اتر گیا مرے سینے میں آگہی کی طرح

نظر بچا کے جسے دیکھتے تھے میرے حریف

سما گیا مری آنکھوں میں روشنی کی طرح

ہوا پہ جس کے قدم ہیں مثال نگہت گل

اسیر ہے مرے شعروں میں نغمگی کی طرح

مرا غزال کہ وحشت تھی جس کو سائے سے

لپٹ گیا مرے سینے سے آدمی کی طرح

مری نگاہ کو تو اپنے آئنے میں بھی دیکھ

جمی ہے تیرے لبوں پر شگفتگی کی طرح

کہاں کے شعر کہاں کی غزل یہ ذہن کی رو

بکھر گئی مرے کاغذ پہ شاعری کی طرح

زباں کھلی ہے تو دل پھٹ پڑا ہے صورت گل

وگرنہ ہم بھی تھے گم آپ میں کلی کی طرح

لحد میں ذہن کی مدفون پیکر اوہام

مری رگوں میں مچلتے ہیں زندگی کی طرح

یہ دھوپ‌ چھاؤں ہے دنیا کی خود مرا سایہ

مرے قریب سے گزرا ہے اجنبی کی طرح

غم زمانہ سے دل تنگ تھے بہت باقرؔ

سمٹ کے رہ گئے احساس‌ بیکسی کی طرح

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے