جھوٹ سچ کی دلیل رہنے دے
جھوٹ سچ کی دلیل رہنے دے
بن گئی جو فصیل رہنے دے
یہ تعلق بحال ہونا نہیں
اب قسم اور دلیل رہنے دے
نقش سارے مٹا دے آنکھوں سے
اس کی یادوں کی جھیل رہنے دے
شوق سے جا مگر پلٹنے کی
یار کوئی سبیل رہنے دے
کیا سے کیا ہیں حساب سود و زیاں
اے متاع قلیل رہنے دے
سر ہمارے کرم کے ساے میں
میرے رب جلیل رہنے دے
ہاتھ آئے ترے لگام وصالؔ
سوچ ایسی بخیل رہنے دے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.