ماضی کی ہر یاد سہانی ساتھ رہی
ماضی کی ہر یاد سہانی ساتھ رہی
بن کے میری آنکھ کا پانی ساتھ رہی
صحرا سوکھا بنجر پت جھڑ سب دیکھا
ایک زمانے تک ویرانی ساتھ رہی
شہر نیا تھا لوگ نئے تھے بات نئی
پھر بھی کوئی یاد پرانی ساتھ رہی
ساتھ کئی افسانے تھے جب ساتھ رہے
بچھڑے تو بس ایک کہانی ساتھ رہی
الفت کے میلے سے جو میں لایا تھا
غم کی وہ انمول نشانی ساتھ رہی
میں تو اس کو بھول ہی جاتا پر گلشنؔ
یاد نے میری ایک نہ مانی ساتھ رہی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.